خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم۔ سحر عندلیب، |

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 1 جنوری، 2019

موبائل فون اور زہنی تناو

موبائل فون اور ذہنی تناو

اگر آپ میری طرح  ا پنے دن کا آغاز اور اختتام موبائل فون کے استعمال سے کرتے ہیں تو  یقینا  اس عادت کے مضر 
صحت ہونے کا آپ کو یہ پڑھنے سے پہلےہی پتہ ہو گا ۔آپ نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہو گا کہ سکرین کے سامنے  کئی گھنٹے 
گزارنے کے بعد  نیند کا آنا آپ کے لئے مشکل ہو جاتا ہے ۔
انسان, ٹیکنالوجی, معلومات, معاشرہ, صحت,

رات کو سونے سے پہلے کسی روشن سکرین کو دیکھنے کا سب سے پہلا اثر تو یہ ہوتا ہے کہ آپ تھکن سے بچ جاتے ہیں   ۔ جی ہاں ، یہاں ہم بات کر رہے ہیں اس تھکن کی جو نیند لانے کے لئے ضروری ہوتی ہے ۔ بستر پر لیٹنے سے پہلے آپ  کے جسم کو مکمل تھکے ہونا  چاہیے جو کہ آپ کے  سامنے روشن سکرین  پر موجود تفریح کی وجہ سے نا ممکن ہوتا ہے۔  کئی گھنٹے تک کھیلی جانے والی ویڈیوویڈیو گیمز ، فیس بک کا زیادہ استعمال ، آئی پیڈ میں پڑے نوٹس  یہ سب مل کر آپ کے جسم میں تناو کو بڑھا دیتے ہیں  ۔ جدید طرز زندگی کے ان ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کے لئے جسم  اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ آدھی رات کو اس تنائو سے  نمٹنے کے لئے  آپ  کا ایڈرینل گلینڈ  کارٹیسول نامی ہارمون پیدا کرتا ہے جو کہ آپ کو جگائے رکھنے کا کام کرتا ہے    جبکہ اس وقت آپ کو میلاٹونن نامی ہارمون جو کہ نیند لے کے آتا ہے کی ضرورت ہوتی ہے مگر آپ کے جسم میں کارٹیسول  کی موجودگی آپ کو جگائے رکھتی ہے ۔
یہاں بنیادی مسئلہ  ٹیکنالوجی کی وجہ سے تناو نہیں ہے بلکہ اصل میں ان سکرینوں سے خارج ہونے والی چبھتی ہوئی نیلی روشنی ہے ۔ سفید روشنی پیدا کرنے کے لئے ان سکرینوں کو کم ویو لینتھ کی   شعائیں خارج کرنی چاہیئں   جو کہ شام کے وقت پیدا ہونے والے میلاٹونن کے اخراج کو روکنے کی ایک اہم وجہ ہیں  ۔ اس وجہ سے نیند کا نہ صرف دورانیہ کم ہوتا ہے بلکہ اس میں بے قاعدگی  بھی پیدا ہوتی ہے ۔ نوجوانوں میں یہ حالت زیادہ بری ہے جو کہ پہلے ہی الو بن کر رات  کو جاگ رہے ہوتے ہیں ۔
کئی ملین سالوں سے ارتقائی سفر کے دوران  ہمارا جسم  اس بات کا عادی ہے کہ غروب آفتاب کی سرخ روشنی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جسم کو اب نیند کی ضرورت  ہے۔ جب کہ صبح کی نیلی روشنی ہمارے جسم کے لئے جاگنے کی علامت ہے  ۔ یہ بے انتہا  سادہ بات آج کے ٹیکنالوجی کے دور نے  پیچیدہ بنا دی ہے ۔ روشنی اور صحت کے پروگرام کی ڈائریکٹر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ماریانہ فی گیرو  کی ریسرچ کے مطابق خود سے روشن کی گئی الیکٹرونک سکرینز میلاٹونن کو بائیس فیصد کم کر سکتی ہیں ۔
سمارٹ فون کا استعمال آپ کی نیند کا دشمن ہے یہ آپ پہلے سے جانتے ہیں کیونکہ جیسے ہی آپ اس کو بند کر کے رکھتے ہیں تو آپ کا سر چکرانے لگتا ہے چکرانے لگتا ہے اور نیند آنے کی بجائے جاتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ لیکن آج کل کے دور میں ڈیجیٹل سکرینز  بالخصوص سمارٹ فون سے چھٹکارا بھی ممکن نہیں ۔ ہمارا زیادہ تر کام کسی نہ کسی  طرح کمپیوٹر سکرین پر ہی ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ ہماری  نیند کی تباہی کی صورت میں سامنے آیا ہے اور نیند کے سرکل میں بے قاعدگی نہ صرف ذیابیطیس  اور موٹاپے جیسے خطرات لے کے آتی ہے بلکہ اگر طویل عرصے تک مسلسل ایسا ہو تو اس سے بھی خطرناک بیماریاں جیسا کی بریسٹ کینسر وغیرہ پیدا ہوتی ہیں  ۔  جو نیوٹرو ٹاکسنز دن کے دوران ہماے دماغ اندر  بنتے  ہیں ان کی صفائی رات کی مکمل اور پرسکون نیند کے دوران ہی ہو سکتی ہے ۔ یہ نیوٹرو ٹاکسنز پھر دماغ میں گھومتے رہتے  ہیں  اور ہمیں سست بناتے ہیں ، ڈپریشن کی وجہ بنتے ہیں ، یکسوئی کا خاتمہ کرتے ہیں اور ہمارے میٹابولزم کو خراب کرتے ہیں ۔
اب آ جاتے ہیں اس کے حل کی طرف تو سب سے پہلے اپنے سمارٹ فون سے بلیو لائٹ فلٹر ہٹا دیجیئے  اس کے لےلئے ایپ سٹور میں   کئی ایپس موجود ہیں جو دن کی روشنی کے ساتھ کام کرتی ہیں اور رات کو آپ کے فون کی سکرین کو سرخ اور ڈارک کر دیتی ہیں ۔ شروع میں اس کا استعمال  مشکل ضرور ہوگا مگر جلد ہی اس کی عادت ہو جائے گی  اور سب سے اہم تو یہ ہے کہ سمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کو بند کریں اور کتاب پڑھنے کی عادت اپنائیے ۔  خوش قسمتی سے ای بک ریڈرز  جیسا کہ کنڈل  وغیرہ کم ویو لینتھ کی روشنی پیدا کرتی ہیں جو کہ ان کا ایک مفید پہلو ہے  ۔  دوسرے الفاظ میں خود کو کتاب کا عادی بنائیں چاہے وہ ڈیجیٹل ہو یا پرنٹ  مگر رات کو سونے سے پہلے اپنی فیس بک یا ٹویٹر کا رخ بالکل نہ کریں کیونکہ آپ کی پسندیدہ  شخصیت کا پیغام صبح تک  آپ کا وہیں منتظر ہو گا مگر نیند ایسی دیوی ہے جو فورا مہربان نہیں ہوتی۔  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں